Social Networks

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ آيا ان گنت رحمتیں سموئے ہوئے آيا بے پایاں رحمتیں اور برکتیں نازل ہو رہی ہیں ماہ مقدس ميں نیکیوں کی موسلادھار بارشيں ہو رہی ہیں صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک صوم رکھ ليا اپنے جسم کے تمام اعضاء کو برائیوں سے...

کل کائنات کا ہے جو نظام پیارا پیارا کیا خوب منتظم ہے اکرام پیارا پیارا ان بادلوں کا چلنا پھر پانی بن برسنا رب کے وجود کا ہے اعلام پیارا پیارا مسلم ہمیں بنایا اور نعمتیں بھی دی ہیں ان نعمتوں سے اعلیٰ ہے کلام پیارا پیارا امت بنایا ہم کو...

اس دشتِ لا مکان پہ بادل اتا ر دے میرے چمن کی سرخی و نکہت نکھار دے میں بھی اسی کی راہ پہ چل دوں گی ایک دن میری وفا کا وہ بھی تو صدقہ اتار دے وہ درد جو کہ روح کو رکھتا ہے مضطرب وہ میری اس حیات...

اتنی سی عمر میں مجھے کیا کیا سکھا دیا اچھا بھلا تھا آدمی شاعر بنا دیا...

سوچ جب ذہن سے نکلےگی بکھر جائےگی وقت کی بھول بھلیوں میں اترجائے گی گرم جوشی، وہ، مَیں..آغازِ تعلق.. یعنی یہ محبت تو فقط دو دن میں مر جائے گی ہاتھ سب میرے گریباں تک کو اٹھے تھے مجھ سےپہلےاسے میری یہ خبرجائے گی روح میری جو گریزاں ہے بدن سے...

میں جو تنہا رہ طلب میں چلا ایک سایہ مرے عقب میں چلا صبح کے قافلوں سے نبھ نہ سکی میں اکیلا سواد شب میں چلا جب گھنے جنگلوں کی صف آئی ایک تارا مرے عقب میں چلا آگے آگے کوئی بگولا سا عالم مستی و طرب میں چلا میں کبھی حیرت طلب...

مِرے سلیقے سے میری نِبھی محبّت میں تمام عُمر میں ناکامیوں سے کام لیا اگرچہ گوشہ گزیں ھُوں میں شاعروں میں، میر پہ میرے شور نے روُئے زمیں تمام لیا...

کیوں اسیر گیسوئے خم دار قاتل ہو گیا ہائے کیا بیٹھے بٹھائے تجھ کو اے دل ہو گیا کوئی نالاں کوئی گریاں کوئی بسمل ہو گیا اس کے اٹھتے ہی دگرگوں رنگ محفل ہو گیا انتظار اس گل کا اس درجہ کیا گل زار میں نور آخر دیدۂ نرگس کا...

شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلا قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا زخم نے داد نہ دی تنگئ دل کی یا رب تیر بھی سینۂ بسمل سے پرافشاں نکلا بوئے گل نالۂ دل دود چراغ محفل جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا دل حسرت زدہ...